صوبائی دارالحکومت میں خواتین اساتذہ اور طالبات کوجنسی طورپر حراساں کرنے کے متعدد واقعات ، سی او ایجوکیشن کالی بھیڑوں کاپشتی بان بن گیا ، خواتین اساتذہ کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

صوبائی دارالحکومت میں خواتین اساتذہ اور طالبات کوجنسی طورپر حراساں کرنے کے متعدد واقعات ، سی او ایجوکیشن کالی بھیڑوں کاپشتی بان بن گیا ، خواتین اساتذہ کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل


لاہور(قدرت روزنامہ)محکمہ ایجوکیشن لاہور میں طالبا ت اور خواتین اساتذہ کوجنسی ہراسانی کا نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات کے باوجود محکمہ تعلیم کی کالی بھیڑیں خاموش ، سی او ایجو کیشن محکمہ میں موجود ان اوباش افراد کے خلاف کارروائی کی بجائے ان کا پشتی بان بن گیا ، عوامی نمائندوں اور خواتین اسا تذہ کی جانب سے تحریری شکایات کے باوجود لیت و لعل سے کام لینے لگا .تفصیلات کے مطابق روز نامہ پاکستان کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ چندماہ کے دور ان صوبائی دارالحکومت کے متعدد سکولوں میں خواتین اساتذہ اورطالبات کے ساتھ جنسی ہراسانی کے متعدد واقعا ت رونماہوچکے ہیں جن میں ایک سرکاری سکول کے سربراہ کی جانب سے سکول کی طالبات کوجنسی ہراسانی کا شکار کیا گیا جس کی وجہ سے متعدد طالبات سکول چھوڑ گئیں جبکہ سکول میں موجود دیگر طالبات اس وقت شدید خوف اور اپنی تعلیم جاری رکھنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں ،متعلقہ عوامی نمائندہ نے اس حوالے سے جب سی او ایجو کیشن کو آگاہ کیا تو اس نے کوئی کارروائی کرنے کی بجائے چپ سادھ لی .

ضرور پڑھیں: وزیراعظم کےدورہ ملائشیاء میں مالیاتی پیکج پربات نہیں ہوگی

ایک دوسرے واقعہ میں ایک گورنمنٹ سکول کے سربراہ نے سکول میں موجود خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا شر وع کردیا جس پر خواتین اساتذہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا مگر ان کی کوئی شنوائی نہ ہوئی بلکہ ان کوالٹا ڈرا دھمکا کرخاموش کروا دیا گیا اور احتجاج کرنے پر سکول کے سربراہ نے متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے مل کر فیمیل ٹیچر پر مس کنڈکٹ کا کیس بنوا دیا اور اس دوران اس خاتون ٹیچر کو مسلسل ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر کے ساتھ مبینہ طور پر اپنے تعلقات درست کرنے اور اس سے معافی مانگنے کیلئے کہا جاتا رہا لیکن جب اس خاتون ٹیچر نے کسی بھی دھونس میں آنے سے انکار کردیاتو ڈی او ایجوکیشن کے ساتھ ملکر اس کی دو انکریمنٹس سٹاپ کردی گئیں جس پر اس نے سی او ایجو کیشن سے اپیل کرکے اس کوتمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا لیکن سی او نے اس بات کا کوئی نوٹس نہ لیا اور محکمہ میں موجود بااثر کالی بھیڑوں کی جانب سے خاتون ٹیچر کومسلسل اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کیلئے مجبور کرکے اس خاتون ٹیچر کو دیگر خواتین اساتذہ کیلئے عبرت کا نشان بنایا جارہاہے .ایک تیسر ے واقعے میں ایک خاتون ٹیچر جب اپنے ایک ضروری کے کام کیلئے ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر لاہور کے آفس میں گئی تو وہاں پر موجود کلرک نے اس کے ساتھ ہاتھ ملانے اور نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کی جس پر اس نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو اس معاملے سے آگاہ کیا مگر متعلقہ کلرک کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے اس خاتون ٹیچر کے سکول میں فون کرکے سربراہ ادارہ کو اس خاتون ٹیچر کوعبرت کا نشان بنانے کا کہا گیا . ایسا ہی واقعہ ایک گورنمنٹ سکول میں اس وقت پیش آیا جب مبینہ طور پر متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا دل اسی سکول میں رہائش پذیر سکیورٹی گارڈ کی بیوی پر آگیااور وہ مسلسل حیلے و بہانوں سے اکثر اوقات اس سکول کے دورے پر رہنے لگا ، ایک دن موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر نے سکول کے سکیورٹی گارڈ کی بیوی کو جنسی ہراسانی کا شکار بنایا جس پر سکیورٹی گارڈ کی بیوی نے اپنے خاوند کو تمام ترصورتحال سے آگاہ کیا اور سکیورٹی گارڈ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر کی پٹائی کردی، متعلقہ حکام نے اس سنگین واقعہ پر بھی کوئی نوٹس لینے کی بجائے واقعہ کو دبا دیا جس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کے سکولوں کے درجہ چہارم کے ملازمین میں اشتعال پایا جاتا .اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خواتین اساتذہ نے بتایا کہ ان کواکثر اوقات سکولوں اوردفاتر میں موجو د اوباش افراد کی جانب سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتاہے لیکن کوئی بھی اپنی اور اپنے گھر والوں کی عزت نیلام ہونے کے ڈرسے حرف شکایات زبان پر نہیں لاتی ، خواتین اساتذہ نے روزنامہ پاکستان کی وساطت سے وزیر برائے انسانی حقوق شریں مزار اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارسے اپیل کی ہے کہ فوری کارروائی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کوان کالی بھیڑوں سے پاک کرکے اس مقدس پیشے سے وابستہ خواتین اور طالبات کوکو تحفظ فراہم کیاجائے .

..

ضرور پڑھیں: ڈاکٹر عمر سیف نے خود کو برطرف کرنے کی وجہ بتا دی

مزید خبریں :