اعظم سواتی نے کتنی سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے ؟ عمران خان کی ناک کے نیچے کیا کچھ ہوتا رہا ؟ ہوش اڑا دینے والی خبر - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

اعظم سواتی نے کتنی سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے ؟ عمران خان کی ناک کے نیچے کیا کچھ ہوتا رہا ؟ ہوش اڑا دینے والی خبر


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونے والی جے آئی ٹی نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیاہے جبکہ اعظم سواتی اس کی تردید کر رہے ہیں .نجی انگریزی اخبار ’ دی نیوز ‘ کے مطابق دستاویزات سے تصدیق ہوتی ہے Ads by کہ انہوںنے تجاوزات قائم کیں اور سی ڈی اے کے قوانین کی خلاف ورزی کی.

ضرور پڑھیں: پی ٹی آئی بھی (ن) لیگ کے نقش قدم پر چل پڑی ۔۔۔۔ نیب کو کمزور بنانے کے لیے ایسی چال چل دی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

جے آئی ٹی نے بدھ کے روز اعظم سواتی کے فارم ہاوس کا دورہ کیا اور انکے گارڈز، ملازمین کے بیانات ریکارڈ کئے.سی ڈی اے کے 6نومبر کو بھیجے گئے نوٹس سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ مذکورہ وزیر نے سرکاری زمین پر تجاوز کیا، جبکہ نوٹس میں دو مزید قانون کی خلاف ورزیاں بیان کی گئی ہیں جس میں ایک طرف غیر قانونی تعمیر اور دوسری جانب منظوری کے بغیر بیسمنٹ کی تعمیر ہے.فارم ہاوس مذکورہ وزیر کی اہلیہ طاہرہ سواتی کے نام پر رجسٹرڈ ہے.یہ سب کچھ 26اکتوبر کو ایک گائے کی دراندازی کے معاملے پر شروع ہوا. واقعے کے بعد گائے کو قبضے میں لے لیا گیا تھا اور اعظم سواتی کے گارڈز اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والے غریب خاندان کے درمیان جھگڑا کھڑا ہو گیا تھا. اس جھگڑے کے نتیجے میں غریب خاندان کے پانچ افراد جن میں خاندان کے سربراہ محمد نیاز، دو خواتین اور 12سالہ بچہ ضیاالدین شامل ہیں، کو گرفتار کر لیا گیا. آئی جی اسلام آباد جان محمد کو اعظم سواتی کی اس شکایت کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا کہ انہوں نے سواتی کا فون نہیں اٹھایا. تاہم بعد میں سواتی اور تحریک انصاف کی حکومت نے دعویٰ کیا کہ آئی جی کو ہٹانے کا گائے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں. پولیس کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غریب گائے نے اعظم سواتی کی زمین پر دراندازی نہیں کی تھی بلکہ وہ اس زمین پر تھی جس پر اعظم سواتی نے اپنے فارم ہاوس

سے باہر ناجائز قبضہ کیا ہوا تھا.دستاویزات کے مطابق اعظم سواتی اسلام آباد کی رہائشی اسکیم میں محض 36کنال زمین کے مالک ہیں جبکہ انکا دعویٰ 46کنال زمین کی ملکیت کا تھا. گوگل ارتھ کی پیمائش کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ اس پر تعیش فارم ہاوس کے مالک نے اپنی زمین کے دونوں طرف کم از کم 11کنال زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے. مذکورہ وزیر نے اس زمین پر تجاوز کرنے کے بعد خاردار تاریں لگا دیں.گوگل ارتھ سے معلوم ہوتا ہے کہ فارم ہاوس کے پچھلی طرف 10کنال زمین پر اعظم سواتی نے خاردار تاریں لگوائیں جبکہ دائیں طرف سی ڈی اے کے قوانین کے خلاف نہ صرف گیٹ نصب کروایابلکہ ایک کچا مٹی کا گھر بھی تعمیر کیا. یہ وہی مٹی کا گھر ہے جہاں اعظم سواتی کے گارڈز نے گائے کو تین دن باندھے رکھا. سی ڈی اے کی دستاویز کے مطابق مذکورہ وزیر کی اہلیہ کے نام صرف 35کنال زمین رجسٹرڈ ہے. زمین فروری 2014میں ای سیون کی رہائشی خاتون سے دس کروڑ بیس لاکھ روپے میں خریدی گئی. سی ڈی اے کے ترجمان صفدر شاہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ جس زمین پر وزیر کی جانب سے خاردار باڑ لگائی گئی ہے وہ صاف صاف تجاوزات یا غیر قانونی قبضہ ہے. انہوں نے بتایا کہ مذکورہ وزیر نے دو بار زمین کے حصول کیلئے رابطہ کیا لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی. انہو ں نے مزید بتایا کہ فارم ہاوس پر پچھلا دروازہ نصب کرنے کی اجازت نہیں کیوں کہ وہ سرکاری زمین پر کھلتا ہے. دروازہ صرف وہاں کھولنے کی اجازت ہے جہاں سڑک ہو یا مالک کی اپنی زمین.نجی اخبار دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم سواتی نے اعتراف کیا کہ اس نمائندے سے گزشتہ بات چیت میں انہوںنے 46کنال زمین سے متعلق غلط دعویٰ کیا تھا. انہوں نے ایس ایم ایس کرتے ہوئے بتایا کہ جب مجھ سے سوال کیا گیا تھا اس وقت میرے پاس کاغذات نہیں تھے، میرے پاس 35کنال زمین ہے جبکہ چار دیواری کے اندر گھر 34.8کنال پر محیط ہے. جب ان سے 10کنال زمین پر قبضے اور مٹی کے گھر کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ درست نہیں، میرا چار دیواری کے باہر کسی زمین پر کوئی قبضہ نہیں، جو درخت لگائے گئے وہ سابقہ مالک نے 20سال پہلے لگائے تھے، میں نے یہ جگہ 2014میں خریدی، میں نے درختوں کو بچانے کی خاطر سی ڈی اے سے اس زمین کے حصول کیلئے بات کی لیکن اجازت نہ ملی. لہذا میرا کسی بھی زمین پر کوئی غیر قانونی قبضہ نہیں. انہوں نے پچھلے دروازے کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا.

..

ضرور پڑھیں: چین پاکستان کی تاریخی مددکر رہا ہے لیکن۔۔۔آخر کار دورہ چین کے حوالے سے وزیراعظم نے خاموشی توڑ دی

مزید خبریں :