امریکی اعلامیہ مسترد ،امریکہ کا بیان حقیقت کے برعکس  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

امریکی اعلامیہ مسترد ،امریکہ کا بیان حقیقت کے برعکس 


اسلام آبادپاکستان نے امریکہ کے پاکستان کی زمین دہشت گردوں کے استعما ل کے حوالے سے بیان کو مسترد کردیا ہے. وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا آج وزارت خارجہ میں وزیراعظم عمران خان آئے، ان کوخارجہ پالیسی پرتفصیلی بریفنگ دی گئی،وزیراعظم کوچیلنجز کے بارے میں آگاہ کیا،میں خود سات سال بعد وزارت خارجہ میں آیا ہوں،دیکھ رہا ہوں یہاں دنیا بدل چکی ہے،ہم نے وزیر اعظم کو کہا کہ پاکستان کا مو191قف یکسوئی سے دنیا کے سامنے رکھا جائے گا ، ہم پاکستان کی مو191ثراور ٹھوس انداز میں ترجمانی کریں گے.

ضرور پڑھیں: کوئٹہ، خالی اسامیوں پر میرٹ اور اہلیت کے مطابق بھرتیوں کی پالیسی وضح کرلی گئی ہے،وزیر اعلی بلوچستان

امریکی دعوٰی حقیقت کے برعکس پاکستانی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کی بات حقیقت کے برعکس ہے، کلبھوشن کے معاملے میں ہمارا کیس مضبوط اورٹھوس شواہد ہیں،پاکستان مذاکرات کرنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتا.انہوں نے کہا کہ وقت بدل گیا ہے اور اب پاکستان مغرب کا محبوب نہیں ہے،ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں تعطل تھا اور ہے، لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے، وزیراعظم نے بھی اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ اگر ایک قدم بڑھو گے تو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، افغانستان میں امن اوراستحکام ہمارے امن اوراستحکام کے لیے ضروری ہے،ایران پاکستان کا پڑوسی بھی ہے ،ہمارے ساتھ ان کا بارڈر کا بہت بڑا حصہ ہے، امریکا اور ایران کی حالیہ کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں،امریکہ اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کی اہمیت سے سب واقف ہیں اس میں اتار چڑھاو191 آتا رہتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ آج کے حالات میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو واپس اس سطح پر لانے کے لئے امریکہ کی افغانستان میں ضروریات کو سمجھنا چاہئے ،ہم اگر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کا ساتھ دینا ہو گاامریکی حکام کوپاکستان کے تقاضے سمجھانے ہونگے،امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمدکا منتظر ہوں ،سارک اہم فورم ہے جوفائدہ اٹھانا چاہیے وہ نہیں اٹھاسکے،یورپی یونین کی اہمیت سے انکارنہیں کیا جاسکتا،ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کانام بلیک لسٹ میں آئے، ہمیں دیکھنا ہوگادنیامیں آگے کیسے بڑھنا ہے.وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی میں امن وامان ترجیحات میں شامل ہے، ہم افغانستان کے استحکام میں اپناکرداراداکرسکتے ہیں عالمی سطح پرایک بارپھرطاقتوں کی تقسیم کاعمل جاری ہے، سارک اہم فورم ہے،وہ فائدہ نہیں اٹھاسکے جواٹھاناچاہیے تھا.امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان کو بلیک میل کرنے کیلئے حربے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں اسکی بڑی وجہ خطے میں امریکہ اور چین وروس اتحاد کی سرد جنگ ہے دونوں فریقین کو پاکستان کو آلہ کار بنانا اور مفادات کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں اس صورتحال میں پاکستان کو بہت سوچ سمجھ کر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ معیشت کو نقصان دہشتگردی کا خطرہ رہے گا ...

ضرور پڑھیں: سبحان اللہ! برازیلین پائلٹ نے طیارہ اڑاتے ہوئے اسلام قبول کر لیا

مزید خبریں :