چین بھی گوادر میں آئل سٹی کو سعودی حکومت کو دینے میں تحفظات رکھتا ہے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

چین بھی گوادر میں آئل سٹی کو سعودی حکومت کو دینے میں تحفظات رکھتا ہے


کوئٹہ(قدرت روزنامہ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹرجہانزیب جمالد ینی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اور صوبے کے سیاسی قائدین کو نظر انداز کر کے دیگر ممالک کے ساتھ اس طرح کے معاہدے کرنا اٹھارویں ترمیم کی رو کے خلاف ہیں حکومت ،چین بھی گوادر میں آئل سٹی کو سعودی حکومت کو دینے میں تحفظات رکھتی ہے اور اسے سی پیک کے پروگرام کے منافی سمجھتی ہے جسکی وجہ سے آج چین کے ساتھ ہمارا خارجہ پالیسی کمزور پڑ چکی ہے ،ہماری پارٹی خطہ بلوچستان اور پوری ملک کو میدان جنگ بنانے کے سخت مخالف ہے ہماری خواہش ہے کہ ہمارے حکمران کسی بیرون ملک کے زیر اثر نہ ہواور آزادانہ طور پر اپنے فیصلے کرتے رہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور صوبے کے سیاسی قائدین کو نظر انداز کر کے دیگر ممالک کے ساتھ اس طرح کے معاہدے کرنا اٹھارویں ترمیم کی رو کے خلاف ہیں. انہوں نے کہا کہ کیا مرکزی حکومت یہ بتا سکتی ہے اور میٹینگ کے منٹس دیکھا سکتی ہے کہ کب صوبائی حکومت اور سیاسی رہنماں کو اعتماد میں لیا.

ضرور پڑھیں: کوئٹہ، خالی اسامیوں پر میرٹ اور اہلیت کے مطابق بھرتیوں کی پالیسی وضح کرلی گئی ہے،وزیر اعلی بلوچستان

انہوں نے کہا ہم ترقی مخالف نہیں اور سعودی عرب ہمارا برادی ملک ہے .لیکن صوبائی حکومت کے اختیارات میں مداخلت لمہ فکر یہ ہے .پوری ملک اور بین الاقوامی سطح پر یہ کہا جا رہا ہے کہ گوادر میں آئل سٹی اور ریکوڈیک گولڈ پروجیکٹ کو سعودی حکومت کے زیرنگرانی میں دینے کا مقصد بلاوسطہ طور پر ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے جو مستقبل میں بلوچ سرذمین کو میدان جنگ بنا سکتا ہے . سعودی حکومت کو ترقیاتی کام دینے کے ہم مخالف نہیں ہیں.لیکن علاقائی رنجشیں ابھارنا اور مسلم ممالک کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ناقابل برداشت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت چین بھی گوادر میں آئل سٹی کو سعودی حکومت کو دینے میں تحفظات رکھتی ہے اور اسے سی پیک کے پروگرام کے منافی سمجھتی ہے جسکی وجہ سے آج چین کے ساتھ ہمارا خارجہ پالیسی کمزور پڑ چکی ہے. جس کے اثرات جلد عوام الناس پر واضح ہو جائنگے.انہوں نے کہا ہم یمن کے مسئلے پر بات چیت اور ثالثی کی حمایت کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ پاکستانبرادر اسلامی ممالک کے درمیان گروہ بندی کی بجائے ان میں یکجہتی اور قربت کو فروغ دے.ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی قابل رشک نہیں جس کی وجہ سے بیشتر دوست ممالک ہم سے دور ہو تے جا رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی خطہ بلوچستان اور پوری ملک کو میدان جنگ بنانے کے سخت مخالف ہے ہماری خواہش ہے کہ ہمارے حکمران کسی بیرون ملک کے زیر اثر نہ ہواور آزادانہ طور پر اپنے فیصلے کرتے رہے تا کہ ہم بیگانگی کا شکار نہ ہو

..

ضرور پڑھیں: سبحان اللہ! برازیلین پائلٹ نے طیارہ اڑاتے ہوئے اسلام قبول کر لیا

مزید خبریں :