اہل بلوچستان کی کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سیلم باجوہ سے توقعات - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

اہل بلوچستان کی کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سیلم باجوہ سے توقعات


تحریر : ظفر اللہ اچکزئی

دہشتگردی، ملک کیخلاف سازشیں سہولت کا روںکا خاتمہ کئے  بغیر ممکن نہیں 


صوبے میں کر پشن ، بیڈ گورننس عروج پر ، بڑھتی دہشتگر دی خطرے کا الارم


لیفٹیننٹ جنرل عاصم سیلم باجوہ نے کمانڈر سدرن کمانڈ کے عہدے کا چارج سنبھا لیا ہے قبل ازیں وہ ڈائر یکٹر جنرل انڈ سروسز پبلک ریلیشن کے عہدے پر فائز تھے اس عہدے پر تعیناتی کی وجہ سے ان کا براہ راست تعلق پاک فوج کے ہر شعبہ کے علاوہ میڈیا سے بھی تھا جسکی وجہ سے وہ بلوچستان سمیت ملک بھر کے ہر قسم کے حالات سے باخبر تھے ،اب کمانڈر سدر ن کمانڈ کی تعیناتی کے باعث انہیں بلوچستان کے مکمل حالات سے آگاہی ہوگی اہل بوچستان کی اکثر یت کو انکی سابقہ کا رکر دگیوں کے باعث بہت سی امیدیں وابستہ ہیں .اس بارے کوئی دو رائے نہیں کہ فاٹا وغیرہ کے علاقوں بالخصوص بلوچستان پر دشمن قوتوں کی نگاہیں ہیں .

ضرور پڑھیں: کوئٹہ، خالی اسامیوں پر میرٹ اور اہلیت کے مطابق بھرتیوں کی پالیسی وضح کرلی گئی ہے،وزیر اعلی بلوچستان

افغانستان میں را اور این ڈی ایس کے تر بیتی کیمپ موجود ہیں .جہاں پر کالعدم تنظیوں بالخصوص بلوچستان میں علیحدگی پسند دہشتگردوں کو باقاعدہ تر بیت دی جاتی ہے اور پھر انہیں مختلف اہداف دے کر بلوچستان بجھوا دیا جاتاہے انہیں اسلحہ رقوم اور دیگر تمام سہولیات یہاں پر موجود انکے سہولت کا ر فراہم کر تے ہیں یعنی دہشتگرد اپنے مقاصد میں کامیاب اور کبھی فورسز کے ہاتھ چڑ ھ کر انجام کو پہنچ جاتے ہیں پاک افغان طویل بارڈر ہونے کے باعث اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ بھی زورو شور سے ہوتی ہے .بارڈر سے منسلک ویران پہاڑی علاقوں کی گذرگاہیں تو اپنی جگہ چمن کو ئٹہ اور کوئٹہ تفتان قومی شاہرہ ہوں پر مختلف محکموں کی متعدد چیک پوسٹوں کی موجودگی کے باوجود دہشتگردوں کی آمد ، منشیات واسلحہ کی اسمگلنگ کا مکروہ دھندہ بوجود کر پشن جاری ہے .اگر سنجیدگی سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو تمام تر برائیوں کا جڑ کر پشن ہے اسی کر پشن کی وجہ سے لاقانونیت عروج کی طرف جارہی ہے غریب تو درکنار ایک عام آدمی بھی ان دہشتگردوں کو تو کجا کسی چور یا جیب کترے کو بھی تباہ نہیں کر سکتا کیونکہ اسے بخوبی علم ہے کہ وہ فوراً قانون کے شکنجے میں جکڑ ا جائے گا .

ملک دشمنوں اور دہشتگردوں کے سہولت کا ر یقینا دولت مند ، بااثر شخصیات ہیں جنہیں بخوبی علم ہے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتا .اسی طرح اغواء کاروں کو بھی اپنی سہولت کاروں کی سر پرستی حاصل ہے اس بار ے بھی کوئی دورائے نہیں کہ بلوچستان میں بیڈ گورننس کی انتہا ہے سر کاری ملازمین بغیر رشوت نہیں ملتیں ،تر قیاتی کا موں کا بجٹ خوردبرد ہوتاہے .اس سلسلہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ ہی کا فی ہے علاوہ ازیں وفا ق اور صوبائی حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے لئے فراہمی ونکاسی آب ، صفائی ، سڑکوں ،گلیوں کی تعمیر ات وغیرہ کیلئے ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز ہیں .لیکن کوئٹہ جو کبھی لٹل پیرس کہلاتا تھا .لیکن چند سال قبل بھی کچھ بہتر حالت میں تھا ،اب کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے جسکا ثبوت جناح روڈ جیسی اہم شاہراہ ہے .علاوہ ازیں اچھے فٹ پاتھ توڑ کر بنائے جارہے ہیں مقصد کر پشن کی وصولی ہے شہر کی اہم شاہراہیں ہمہ وقت غلاظت اور گندے پانی سے ندی نالے بنی ہوتی ہیں .دہشتگردی کی وارداتیں ایک بار پھر عروج پکڑ رہی ہے .جو مستقبل میں آنے والی سنگین صورتحال کی نشاندہی ہیں جہاں تک صوبائی حکومت کا تعلق ہے تو الیکشن 2018آنے والے ہیں اسکی نگاہیں ان انتخابات ،سیاسی جوڑ تو ڑ بالخصوص نواز شریف اور اسحاق ڈار کیخلاف کا روائیوں پر ہیں کہ مستقبل میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اہل بلوچستان خواہ ان کا تعلق کسی بھی قوم یامسلک سے ہے بخوبی آگاہ ہیں اور ہمہ وقت اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ قربانیوں کیلئے تیار ہیں .کمانڈر سدرن کمانڈ سے توقع رکھتے ہیں وہ دہشتگردوں بالخصوص انکے سہولت کاروں کیخلاف کاروائی کر ائیں کیونکہ جب تک سہولت کار ہیں دہشتگر دوں کا خاتمہ ممکن نہیں .دوسرے صوبائی حکومت کی بیڈ گورننس پر نظر رکھیں عوام کے جان ومان کے تحفظ کے لئے خصوصی اقدامات کر یں .کیونکہ یہاں پولیس بے بس ہے اور ایف سی بلواسطہ آپ کے ماتحت ہے بلوچستان کے بے بس مظلوم عام عوام آپ اور مسلح افواج کیلئے ہمہ وقت دعا گو رہیں

..

ضرور پڑھیں: سبحان اللہ! برازیلین پائلٹ نے طیارہ اڑاتے ہوئے اسلام قبول کر لیا

مزید خبریں :