سعودی عرب نے ابھی تک پاکستان کو کچھ نہیں دیا بلکہ۔۔۔ صف اول کے صحافی کے انکشاف نے ہلچل مچا دی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

سعودی عرب نے ابھی تک پاکستان کو کچھ نہیں دیا بلکہ۔۔۔ صف اول کے صحافی کے انکشاف نے ہلچل مچا دی


لاہور(قدرت روزنامہ) حکومت کے زرمبادلہ کے بحران پر قابو پالینے کے دعوے کے برعکس سعودی عرب نے ابھی تک پاکستان کو کچھ نہیں دیا ہے . نجی ٹی وی نیوز چینل کے پروگرام ” کامران خان کے ساتھ ” میں گفتگو کرتے ہوئے نمائندہ شہباز رانا نے بتایا کہ موجودہ حکومت کیلئے بڑا چیلنج رواں مالی سال کے دوران 31ارب ڈالر تک کا انتظام کرنا تھا، بانڈز سمیت مختلف ذرائع سے زر مبادلہ جمع کرکے بھی 12ارب ڈالر کاخسارہ بچتا تھا.

ضرور پڑھیں: ’’کسی کے گھر سے کھانے کی کوئی میٹھی چیز آئے تو کھانے سے پہلے یہ کام کرلیں کیونکہ ۔۔۔‘‘ایک ایسا عمل جو پاکستان میں ہر کسی کو کرنا چاہئے

اس پر دوست ملکوں سے مدد لینے کا فیصلہ ہوا.تاہم سعودی عرب سے ابھی تک کیش ریزرو منتقل نہیں ہوا، مگر چونکہ سعودی عرب کو تیل کی فوری ادائیگی نہیں کرنی ،اسلئے خسارہ 6ارب تک آگیاہے ،مگر تمام خسارہ چین سے پورا نہیں ہو گا،کچھ متحدہ عرب امارات سے ملنے کی توقع ہے ، یہ انتظام 30جون 2019تک کاہے . سعودی عرب کاڈیپازٹ ہم نے بہرحال واپس کرناہے ، آئی ایم ایف کاوفد پوچھے گا کہ ڈیپازٹ کیسے ادا ہو گا.آئی ایم ایف مالیاتی اہداف کودیکھتا ہے ، اس لئے وہ نئے ٹیکس لگانے اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کاکہہ سکتا ہے . وزیرخزانہ کابرآمد دگنی کرنے کا دعویٰ مضحکہ خیزہے .سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹروقار مسعود نے کہا کہ حکومتی دعوؤں کے برعکس حقیقت جلد سامنے آ جائیگی. چین نے گزشتہ دو سالوں میں ادائیگیوں کے توازن کیلئے 8ارب ڈالر تک کے قرضے انتہائی کم شرح پر دیئے ، جس کاانہوں نے کبھی ذکرنہیں کیا. وزیراعظم کے موجودہ دورے میں بھی چین نے وعدے کئے ہونگے . انتہائی دوستانہ تعلقات کے باوجود چین بھی یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان اس نوعیت کا اس پر انحصار کرے .آئی ایم ایف

کاوفد پاکستان میں ہے ، اس کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ ہمیں ان کی ضرورت ہے .انہوں کا کہاکہ ماہ اکتوبر کے اعدادوشمار کافی پریشان کن ہیں، افراط زر 7فیصد ہو گیاہے ،حالانکہ پٹرول ،گیس اور بجلی کی قیمت میں ابھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا. سینئر صحافی انور اقبال نے پاک امریکہ تعلقات پر کہا کہ واشنگٹن میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ پاکستان کیساتھ تعلقات توڑنے نہیں، بلکہ آگے بڑھانے ہیں.امریکی حکام اور تھنک ٹینکس کا خیال تھا کہ سکیورٹی امداد روکنے سے پاکستان ماضی کی طرح فوری بیک فٹ پر چلا جائیگا، اور ہر شرط مان لے گا .مگر وہ حیران ہیں کہ اس مرتبہ پاکستان نے ردعمل دیاہے . اسلئے وہ پاکستان سے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں.انہوں نے کہاکہ واشنگٹن پاکستان سے متعلق غلط فہمی کاشکار ہے کہ پاکستان طالبان کومذاکرات کیلئے مجبور کرسکتا ہے ، جبکہ یہ حقیقت نہیں، پاکستان ایک حد تک اثرانداز ہو سکتاہے ، مجبور نہیں کرسکتا. ادھر طالبان بھی جانتے ہیں کہ وہ جنگ جیت نہیں سکتے ، صرف طول دے سکتے ہیں،جوکہ امریکہ نہیں چاہتا. طالبان دباؤ کے تحت نہیں ، کسی سمجھوتے کے تحت گفتگو کرینگے .

..

ضرور پڑھیں: حکومت کا شہباز شریف، مریم کے سفری اخراجات، رائیونڈ سکیورٹی اور نواز شریف دور کے تحائف کے معاملات نیب کو بھجوانے کا اعلان

مزید خبریں :